وَعَلَّمَ اٰدمَ الاَسْمَآءَکُلَّھَا( اور اللہ نے آدم ؑ کو تمام اسماء تعلیم فرما دئے)
وحدت اللّسان کے قانونِ تناسب
[صوت و معنیٰ میں راست تناسب ہوتا ہے ۔یعنی الفاظ میں جس درجہ کی صوتی مماثلت ہو گی اسی درجہ کی ان میں معنوی مماثلت ہو گی]
سے استفادہ کی ایک عملی صورت
صدر المصادر
قرآنی مصادر ومشتقات اور ادوات کی امکانی
عجمی(اردو،ہندی،فارسی،پنجابی،انگریزی وغیرہ) صورتیں
صفدر ؔ قریشی
وحدت پبلیکیشنز ،173.c،گلی نمبر 7(محمدی سٹریٹ)
نزد فیض مسجد ،ٹنچ بھاٹہ راولپنڈی۔فون:۔5513656
EMAIL:.safdar_qureshi@yahoo.com
دیباچہ
نحمد ہ و نصلّی علیٰ رسولہ الکریم
اللہ تبارک و تعالیٰ نے برسوں پرانے خواب کی تعبیر’’ صدر المصادر‘‘ کی صورت میں مرحمت فرمائی اس کے لئے جتنا شکر کروں کم ہے۔صدر المصادر ایک طرح کا لغت ہے۔یہ لغت عام لغات سے کئی لحاظ سے مختلف ہے۔عام لغات الفاظ کے مترادفات وغیرہ پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ان میں الفاظ کے ابدال(بدلی ہوئی عجمی شکلیں ) و متبادلات(ہم زبان ،ہم معنیٰ و ہم صوت، قریب المعنیٰ و قریب الصوت الفاظ) کا ذکر نہیں ہوتا۔ جب کہ صدر المصادر میں الفاظ کے ابدال ومتبادلات یعنی اصلی اور بدلی تمام صورتوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
صدر المصادر اصل میں نظریہء وحدت اللسان سے استفادہ کی ایک عملی صورت ہے۔وحدت اللسان علم الاشتقاق(etymology) کی نظریاتی بنیاد ہے۔ وحدت اللسان کا محرک نظریہء وحدت الانسان ہے۔جس طرح شکلوں اور صورتوں کے ظاہری اختلاف کے باوجودتمام انسانوں میں صنفی اشتراک پایا جاتا ہے۔اسی طرح تمام زبانوں میں لسانی اشتراک پایا جاتاہے۔
سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے:۔
یٰآ یُّھَاالنَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَ بَثَّ مِنْھُمَا رِجَالاً کَثِیْرًا وَّنِسَاءً ج ۔۔۔(آیت:۱)
’’اے لوگو!اپنے پروردگار سے ڈرو،جس نے تمہیں ایک جان سے پیداکیا اور اس سے اس کی بیوی کو پیداکر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اورعورتیں پھیلادیں... ‘‘
اورسورہ زمر میں ارشاد خداوند ی ہے:۔
خَلَقَکُمْ مِّنْ نَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْھَا زَوْجَھَا
اس حوالہ سے تمام انسانوں کی اصل نفسِ واحدہ ہے۔اس نفسِ واحدہ کا نامِ نامی حضرت آدم ؑ ہے۔جس طرح تمام انسان حضرت آدمؑ کی اولاد ہیں اسی طرح ان کی زبانوں کا ماخذ بھی لسانِ آدم ہے۔
وحدت اللسان یعنی زبانوں کے اختلاف میں چھپے ہوئے اشتراک کو دریافت کرنے اور اس سوچ کو مربوط نظریے کی صورت پیش کرنے کی سعادت اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس فقیرکو خصوصی طور پر عطا فرمائی ہے۔میںیہ بات مبالغہ یا کسرِ نفسی کی بنا پر نہیں کہہ رہا۔مجھے کسی زبان کا ملکہ حاصل ہے نہ کسی فن میں مہارت۔ماہرینِ لسانیات کے مقابلہ میں میری حیثیت اُمیّ کی سی ہے۔مجھ جیسے نا اہل سے وحدت اللسان جیسا عظیم کام لینا اعجازِ خدا وندی ہے ۔یہ اس کا خصوصی کرم ہے کہ اس نے میرے اُمیّ پن کو ایک فن بنا دیا۔
میں نے قواعدِ صرف ، نحواورتجوید یعنی گرامر سے استفادہ کرنے اور سائنسی طرزِ استدلال اپنانے کی کوشش کی ہے۔ عربی،فارسی،انگریزی،اردو اور پنجابی لغات (کے الفاظ )کو ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ان علوم کی میرے پاس کوئی ڈگری ہے نہ سند۔میں تو معمولی درجہ کا ایک استاد ہوں۔ میری عمر کا اکثر حصہ ایف جی پبلک سیکنڈری(پرانے کینٹ پبلک)سکول میں لیبارٹری اسسٹنٹ پھر ٹرینڈ گریجویٹ ٹیچر کی حیثیت سے گذرا ہے۔میں کچھ عرصہ حرف و معنیٰ کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ادبی تنظیم حلقہء اربابِ ذوق راولپنڈی سے منسلک رہا ہوں۔ یہ علمی وتدریسی ماحول میری یونیورسٹی تھا۔اس ماحول نے تفکر و تدبر اور تحقیق و تجسس کا ذوق بخشا۔اس ذوق و شوق کی تحریک پر عرصہ ء درازتک سائینسی ایجادات و نظریا ت اور ادبی تجربات کے الجھاؤ سے الجھتا رہا ۔۔۔۔میں سائینسدان بن سکا نہ شاعر۔یہ دور تشکیک اور بے یقینی کی وادیوں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کا دور تھا۔مگریہ سر گردانیاں ایک طرح کی ذہنی تربیت اور روحانی ریاضت تھی۔یہ بے سمت سفر اصل میں میرا سمت نما اور راہنما تھا۔اس تربیت و ریاضت کے نور نے مجھے صحرائے تشکیک سے نکال کربہشت زارِ ایمان کی راہ پہ ڈال دیا۔
ایمان کا تعلق اندر سے ہے ۔اور ہمارا اندر مادی آلائشوں سے اٹا ہوا ہے۔جب تک اندر آلائشوں سے پاک نہیں ہوتا ایمان کا نور نصیب نہیں ہوتا۔اس نور کے حصول کے لئے ایمان ویقین کے ماحول کی ضرورت ہے۔مجھے یہ ماحول بڑی دیر کے بعد ملا۔مگر جب ملا تشکیک اور بے یقینی کے اندھیرے چھٹ گئے۔اللہ و رسول دونوں کے کام اور کلام کے بول سن سن کر اللہ کے حکم اور نبی ﷺ کے طریقوں پہ یقین جمتا گیا۔ میرا اصل مدرسہ تبلیغی جماعت ہے ۔جماعت کے تربیتی نظام کے تحت میں نے ایمان و ایقان اور ہمت واستقلال کی اہلیت حاصل کی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے وحدت اللسان کی نعمت اسی تبلیغ کی برکت سے عطا فرمائی ہے۔
قوتِ ایمانی انسان کا اصل سرمایہ ہے۔اسی قوت کے بل بوتے پر میں تقریبًا دو دہائیوں سے مسلسل نظریہء وحدت اللسان پر کام کر رہاہوں۔اگر قرآن کی زبان کی فضیلت پر ایمان نہ ہوتا تو میں اتنی مشقت نہ اٹھاتا ۔میرے پاس اہلیت تھی نہ وسائل۔مجھے اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی ظاہری شکل کے ایک تصور کو مکمل تصویر کی صورت متشکل کرنے کی سعادت بخشی ہے۔یہ تصویر ایک نمونہ ہے۔اس نمونہ کی بنیاد پر آپ آگے بڑھ سکتے ہیں۔اس یقین کے ساتھ کہ سب زبانوں کی اصل بلا استثناء(قرآنی) عربی ہے۔
قارئین کرام!
صدر المصادر کے مطالعہ سے پہلے اس کے پس منظر کا تذکرہ موانست پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے۔ اس لئے کچھ ذاتی احوال نقل کئے ہیں۔زیرِ نظر کتاب کے مندرجات کئی حوالوں سے قاری کے لئے اجنبی ہیں۔اجنبیت کی وجہ سے کچھ مشکلات پیش آسکتی ہیں ۔اور مشکلات تو ہر معاملہ میں پیش آسکتی ہیں۔مشکلات کا حل اللہ تعالیٰ نے محنت میں رکھا ہے۔بس تھوڑی سی محنت کی ضرورت ہے۔پھر یہ کوئی عام کتاب نہیں۔اس سے استفادہ کے لئے تحقیقی مزاج اور انتھک لگن کی ضرورت ہے۔
شروع شروع میں بہت سے ابدال و متبادلات آپ کو محض تک بندی اوراٹکل پچو محسوس ہوں گے۔مگر یقین جانئے کوئی حوالہ بھی بے دلیل نہیں ۔اگر آپ نے وحدت اللسان کی پہلی تین جلدوں کا مطالعہ کیا ہو توکسی قسم کا اشکال پید انہیں ہو گا۔
وحدت اللسان کی پہلی جلد’’کتاب الابدال‘‘ میں علم التجوید کی مدد سے ثابت کیا گیا ہے کہ فلاں حرف فلاں اصول کے تحت فلاں فلاں حرف سے بدل سکتاہے۔دوسری جلدکا عنوان ہے’’ کتابِ حذف واضافہ‘‘ ۔اس کتاب میں قوانین و قواعدکے عنوان سے ان اصولوں اور اسباب و علل کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں جو حروف و حرکات کے اخراج و ادخال کا باعث ہوتے ہیں۔
ان دو جلدوں کی حیثیت وحدت اللسان میں بنیادواساس کی سی ہے کہ ان میں وحدت اللسان کی مبادیات کا تعارف کرایا گیا ہے۔ان میں بنیادی قوانین کی وضاحت کی گئی ہے۔تیسری جلد میں وحدت اللسان کی افادیت کا عملی نمونہ پیش کیا گیاہے۔اس میں عربی ادواتinstruments(حروفِ جار،ضمائراور اعداد وغیرہ) کے عجمی ابدال کے علاوہ اردو،پنجابی،فارسی اور انگریزی ادوات کی اصل و بدل کی بھی نشان دہی کی گئی ہے۔
جو حضرات وحدت اللسان سے متعارف نہیں ان سے گذارش ہے کہ دورانِ مطالع جو الفاظ درست معلوم ہوتے ہیں انہیں علیحدہ کاغذ پہ تحریر فرما لیں۔پھر اس فہرست کو سامنے رکھ کر دیکھیں اصل و بدل میں کیا فرق ہے۔مطلب یہ ہے کہ کون سا حرف کس حرف سے بدلا ہے۔کون سا حرف حذف ہوا ہے اور کس حرف کی زیادتی ہوئی ہے۔تھوڑی سی مشق سے وحدت اللسان کی کچھ تفہیم ہو جائے گی۔اب اپنے اخذ کردہ نتائج یا معلومات کی روشنی میں دوبارہ مطالع فرمائیں آپ کو کچھ اور ابدال و متبادلا ت
درست معلوم ہوں گے۔بار بار کی کوشش سے آپ کوبدل و متبادل معلوم کرنے کا ڈھنگ آجائے گا۔ایک وقت آئے گا کہ بدل ومتبادل معلوم کرنا آپ کا مشغلہ بن جائے گا۔اس مشغلہ کو آپ قرآن فہمی کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔
صدر المصادر کا اصل موضوع لغت ہے۔وہ لغا ت جو صوتی و معنوی لحاظ سے قرآنی مفاہیم کے قریب تر ہوں ان کی دریافت بہت بڑا کام ہے۔ صدر المصادر اس کام کا ابتدائیہ ہے۔اس کام کو آگے بڑھانا کسی ایک فرد یا طبقے کا نہیں پوری انسانیت خصوصًا امتِ مسلمہ کے کرنے کا کام ہے۔
قرآنِ پاک جامع العلوم ہے۔اہلِ نظر کا کہنا ہے کہ بحر و بر یعنی ہر خشک و تر کا علم قرآنِ پاک میں موجود ہے ۔وحدت اللسان کی تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ تمام زبانوں کی اصل قرآنی عربی ہے۔صدر المصادر اس بات کی ایک ادنیٰ سی دلیل ہے۔ اس دلیل کو لے کر آگے بڑھنا آپ کا کام ہے۔مجھے امید ہے کہ صدر المصادرقرآن فہمی میں معاون و مدد گار ثابت ہو گی ۔ وحدت اللسان نظریہء وحدتِ انسان کی مؤید ہے ۔اس وقت بنی نوعِ انسان شیطانی وساوس کی وجہ سے بے شمار گروہوں میں تقسیم ہو چکے ہیں ان بکھری اکائیوں کومتحد کرنے کا ذریعہ فکرِ قرآن ہے۔اس فکر کو تمام انسانوں تک پہنچانے کی فکر کرنا امتِ مسلمہ کا اجتماعی ذمہ داری ہے۔
صفدر ؔ قریشی
راولپنڈی ۲۰۰۷ ء بمطابق ۱۴۲۸ ھ
علامات:بدل و متبادل کے لئے :،ہندی بدل کے لئے (ہ)،سنسکرت کے لئے(س)
،قدیم اردو کے لئے (ق)،فارسی کے لئے(ف)،پنجابی کے لئے (پ)کی علامات استعمال کی گئی ہیں۔عربی اور انگریزی کی شناخت ان کا رسم الخط ہے۔
نوٹ:۔قران کے علاوہ چند غیر قرآنی الفاظ کے ابدال کی بھی نشاندہی کی گئی ہ
وحدت اللّسان کے قانونِ تناسب
[صوت و معنیٰ میں راست تناسب ہوتا ہے ۔یعنی الفاظ میں جس درجہ کی صوتی مماثلت ہو گی اسی درجہ کی ان میں معنوی مماثلت ہو گی]
سے استفادہ کی ایک عملی صورت
صدر المصادر
قرآنی مصادر ومشتقات اور ادوات کی امکانی
عجمی(اردو،ہندی،فارسی،پنجابی،انگریزی وغیرہ) صورتیں
صفدر ؔ قریشی
وحدت پبلیکیشنز ،173.c،گلی نمبر 7(محمدی سٹریٹ)
نزد فیض مسجد ،ٹنچ بھاٹہ راولپنڈی۔فون:۔5513656
EMAIL:.safdar_qureshi@yahoo.com
دیباچہ
نحمد ہ و نصلّی علیٰ رسولہ الکریم
اللہ تبارک و تعالیٰ نے برسوں پرانے خواب کی تعبیر’’ صدر المصادر‘‘ کی صورت میں مرحمت فرمائی اس کے لئے جتنا شکر کروں کم ہے۔صدر المصادر ایک طرح کا لغت ہے۔یہ لغت عام لغات سے کئی لحاظ سے مختلف ہے۔عام لغات الفاظ کے مترادفات وغیرہ پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ان میں الفاظ کے ابدال(بدلی ہوئی عجمی شکلیں ) و متبادلات(ہم زبان ،ہم معنیٰ و ہم صوت، قریب المعنیٰ و قریب الصوت الفاظ) کا ذکر نہیں ہوتا۔ جب کہ صدر المصادر میں الفاظ کے ابدال ومتبادلات یعنی اصلی اور بدلی تمام صورتوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
صدر المصادر اصل میں نظریہء وحدت اللسان سے استفادہ کی ایک عملی صورت ہے۔وحدت اللسان علم الاشتقاق(etymology) کی نظریاتی بنیاد ہے۔ وحدت اللسان کا محرک نظریہء وحدت الانسان ہے۔جس طرح شکلوں اور صورتوں کے ظاہری اختلاف کے باوجودتمام انسانوں میں صنفی اشتراک پایا جاتا ہے۔اسی طرح تمام زبانوں میں لسانی اشتراک پایا جاتاہے۔
سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے:۔
یٰآ یُّھَاالنَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَ بَثَّ مِنْھُمَا رِجَالاً کَثِیْرًا وَّنِسَاءً ج ۔۔۔(آیت:۱)
’’اے لوگو!اپنے پروردگار سے ڈرو،جس نے تمہیں ایک جان سے پیداکیا اور اس سے اس کی بیوی کو پیداکر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اورعورتیں پھیلادیں... ‘‘
اورسورہ زمر میں ارشاد خداوند ی ہے:۔
خَلَقَکُمْ مِّنْ نَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْھَا زَوْجَھَا
اس حوالہ سے تمام انسانوں کی اصل نفسِ واحدہ ہے۔اس نفسِ واحدہ کا نامِ نامی حضرت آدم ؑ ہے۔جس طرح تمام انسان حضرت آدمؑ کی اولاد ہیں اسی طرح ان کی زبانوں کا ماخذ بھی لسانِ آدم ہے۔
وحدت اللسان یعنی زبانوں کے اختلاف میں چھپے ہوئے اشتراک کو دریافت کرنے اور اس سوچ کو مربوط نظریے کی صورت پیش کرنے کی سعادت اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس فقیرکو خصوصی طور پر عطا فرمائی ہے۔میںیہ بات مبالغہ یا کسرِ نفسی کی بنا پر نہیں کہہ رہا۔مجھے کسی زبان کا ملکہ حاصل ہے نہ کسی فن میں مہارت۔ماہرینِ لسانیات کے مقابلہ میں میری حیثیت اُمیّ کی سی ہے۔مجھ جیسے نا اہل سے وحدت اللسان جیسا عظیم کام لینا اعجازِ خدا وندی ہے ۔یہ اس کا خصوصی کرم ہے کہ اس نے میرے اُمیّ پن کو ایک فن بنا دیا۔
میں نے قواعدِ صرف ، نحواورتجوید یعنی گرامر سے استفادہ کرنے اور سائنسی طرزِ استدلال اپنانے کی کوشش کی ہے۔ عربی،فارسی،انگریزی،اردو اور پنجابی لغات (کے الفاظ )کو ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ان علوم کی میرے پاس کوئی ڈگری ہے نہ سند۔میں تو معمولی درجہ کا ایک استاد ہوں۔ میری عمر کا اکثر حصہ ایف جی پبلک سیکنڈری(پرانے کینٹ پبلک)سکول میں لیبارٹری اسسٹنٹ پھر ٹرینڈ گریجویٹ ٹیچر کی حیثیت سے گذرا ہے۔میں کچھ عرصہ حرف و معنیٰ کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ادبی تنظیم حلقہء اربابِ ذوق راولپنڈی سے منسلک رہا ہوں۔ یہ علمی وتدریسی ماحول میری یونیورسٹی تھا۔اس ماحول نے تفکر و تدبر اور تحقیق و تجسس کا ذوق بخشا۔اس ذوق و شوق کی تحریک پر عرصہ ء درازتک سائینسی ایجادات و نظریا ت اور ادبی تجربات کے الجھاؤ سے الجھتا رہا ۔۔۔۔میں سائینسدان بن سکا نہ شاعر۔یہ دور تشکیک اور بے یقینی کی وادیوں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کا دور تھا۔مگریہ سر گردانیاں ایک طرح کی ذہنی تربیت اور روحانی ریاضت تھی۔یہ بے سمت سفر اصل میں میرا سمت نما اور راہنما تھا۔اس تربیت و ریاضت کے نور نے مجھے صحرائے تشکیک سے نکال کربہشت زارِ ایمان کی راہ پہ ڈال دیا۔
ایمان کا تعلق اندر سے ہے ۔اور ہمارا اندر مادی آلائشوں سے اٹا ہوا ہے۔جب تک اندر آلائشوں سے پاک نہیں ہوتا ایمان کا نور نصیب نہیں ہوتا۔اس نور کے حصول کے لئے ایمان ویقین کے ماحول کی ضرورت ہے۔مجھے یہ ماحول بڑی دیر کے بعد ملا۔مگر جب ملا تشکیک اور بے یقینی کے اندھیرے چھٹ گئے۔اللہ و رسول دونوں کے کام اور کلام کے بول سن سن کر اللہ کے حکم اور نبی ﷺ کے طریقوں پہ یقین جمتا گیا۔ میرا اصل مدرسہ تبلیغی جماعت ہے ۔جماعت کے تربیتی نظام کے تحت میں نے ایمان و ایقان اور ہمت واستقلال کی اہلیت حاصل کی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے وحدت اللسان کی نعمت اسی تبلیغ کی برکت سے عطا فرمائی ہے۔
قوتِ ایمانی انسان کا اصل سرمایہ ہے۔اسی قوت کے بل بوتے پر میں تقریبًا دو دہائیوں سے مسلسل نظریہء وحدت اللسان پر کام کر رہاہوں۔اگر قرآن کی زبان کی فضیلت پر ایمان نہ ہوتا تو میں اتنی مشقت نہ اٹھاتا ۔میرے پاس اہلیت تھی نہ وسائل۔مجھے اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی ظاہری شکل کے ایک تصور کو مکمل تصویر کی صورت متشکل کرنے کی سعادت بخشی ہے۔یہ تصویر ایک نمونہ ہے۔اس نمونہ کی بنیاد پر آپ آگے بڑھ سکتے ہیں۔اس یقین کے ساتھ کہ سب زبانوں کی اصل بلا استثناء(قرآنی) عربی ہے۔
قارئین کرام!
صدر المصادر کے مطالعہ سے پہلے اس کے پس منظر کا تذکرہ موانست پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے۔ اس لئے کچھ ذاتی احوال نقل کئے ہیں۔زیرِ نظر کتاب کے مندرجات کئی حوالوں سے قاری کے لئے اجنبی ہیں۔اجنبیت کی وجہ سے کچھ مشکلات پیش آسکتی ہیں ۔اور مشکلات تو ہر معاملہ میں پیش آسکتی ہیں۔مشکلات کا حل اللہ تعالیٰ نے محنت میں رکھا ہے۔بس تھوڑی سی محنت کی ضرورت ہے۔پھر یہ کوئی عام کتاب نہیں۔اس سے استفادہ کے لئے تحقیقی مزاج اور انتھک لگن کی ضرورت ہے۔
شروع شروع میں بہت سے ابدال و متبادلات آپ کو محض تک بندی اوراٹکل پچو محسوس ہوں گے۔مگر یقین جانئے کوئی حوالہ بھی بے دلیل نہیں ۔اگر آپ نے وحدت اللسان کی پہلی تین جلدوں کا مطالعہ کیا ہو توکسی قسم کا اشکال پید انہیں ہو گا۔
وحدت اللسان کی پہلی جلد’’کتاب الابدال‘‘ میں علم التجوید کی مدد سے ثابت کیا گیا ہے کہ فلاں حرف فلاں اصول کے تحت فلاں فلاں حرف سے بدل سکتاہے۔دوسری جلدکا عنوان ہے’’ کتابِ حذف واضافہ‘‘ ۔اس کتاب میں قوانین و قواعدکے عنوان سے ان اصولوں اور اسباب و علل کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں جو حروف و حرکات کے اخراج و ادخال کا باعث ہوتے ہیں۔
ان دو جلدوں کی حیثیت وحدت اللسان میں بنیادواساس کی سی ہے کہ ان میں وحدت اللسان کی مبادیات کا تعارف کرایا گیا ہے۔ان میں بنیادی قوانین کی وضاحت کی گئی ہے۔تیسری جلد میں وحدت اللسان کی افادیت کا عملی نمونہ پیش کیا گیاہے۔اس میں عربی ادواتinstruments(حروفِ جار،ضمائراور اعداد وغیرہ) کے عجمی ابدال کے علاوہ اردو،پنجابی،فارسی اور انگریزی ادوات کی اصل و بدل کی بھی نشان دہی کی گئی ہے۔
جو حضرات وحدت اللسان سے متعارف نہیں ان سے گذارش ہے کہ دورانِ مطالع جو الفاظ درست معلوم ہوتے ہیں انہیں علیحدہ کاغذ پہ تحریر فرما لیں۔پھر اس فہرست کو سامنے رکھ کر دیکھیں اصل و بدل میں کیا فرق ہے۔مطلب یہ ہے کہ کون سا حرف کس حرف سے بدلا ہے۔کون سا حرف حذف ہوا ہے اور کس حرف کی زیادتی ہوئی ہے۔تھوڑی سی مشق سے وحدت اللسان کی کچھ تفہیم ہو جائے گی۔اب اپنے اخذ کردہ نتائج یا معلومات کی روشنی میں دوبارہ مطالع فرمائیں آپ کو کچھ اور ابدال و متبادلا ت
درست معلوم ہوں گے۔بار بار کی کوشش سے آپ کوبدل و متبادل معلوم کرنے کا ڈھنگ آجائے گا۔ایک وقت آئے گا کہ بدل ومتبادل معلوم کرنا آپ کا مشغلہ بن جائے گا۔اس مشغلہ کو آپ قرآن فہمی کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔
صدر المصادر کا اصل موضوع لغت ہے۔وہ لغا ت جو صوتی و معنوی لحاظ سے قرآنی مفاہیم کے قریب تر ہوں ان کی دریافت بہت بڑا کام ہے۔ صدر المصادر اس کام کا ابتدائیہ ہے۔اس کام کو آگے بڑھانا کسی ایک فرد یا طبقے کا نہیں پوری انسانیت خصوصًا امتِ مسلمہ کے کرنے کا کام ہے۔
قرآنِ پاک جامع العلوم ہے۔اہلِ نظر کا کہنا ہے کہ بحر و بر یعنی ہر خشک و تر کا علم قرآنِ پاک میں موجود ہے ۔وحدت اللسان کی تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ تمام زبانوں کی اصل قرآنی عربی ہے۔صدر المصادر اس بات کی ایک ادنیٰ سی دلیل ہے۔ اس دلیل کو لے کر آگے بڑھنا آپ کا کام ہے۔مجھے امید ہے کہ صدر المصادرقرآن فہمی میں معاون و مدد گار ثابت ہو گی ۔ وحدت اللسان نظریہء وحدتِ انسان کی مؤید ہے ۔اس وقت بنی نوعِ انسان شیطانی وساوس کی وجہ سے بے شمار گروہوں میں تقسیم ہو چکے ہیں ان بکھری اکائیوں کومتحد کرنے کا ذریعہ فکرِ قرآن ہے۔اس فکر کو تمام انسانوں تک پہنچانے کی فکر کرنا امتِ مسلمہ کا اجتماعی ذمہ داری ہے۔
صفدر ؔ قریشی
راولپنڈی ۲۰۰۷ ء بمطابق ۱۴۲۸ ھ
علامات:بدل و متبادل کے لئے :،ہندی بدل کے لئے (ہ)،سنسکرت کے لئے(س)
،قدیم اردو کے لئے (ق)،فارسی کے لئے(ف)،پنجابی کے لئے (پ)کی علامات استعمال کی گئی ہیں۔عربی اور انگریزی کی شناخت ان کا رسم الخط ہے۔
نوٹ:۔قران کے علاوہ چند غیر قرآنی الفاظ کے ابدال کی بھی نشاندہی کی گئی ہ

No comments:
Post a Comment